نئی دہلی:14/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہمارے ملک میں ہر کسی کو اظہارِ خیال کا اختیار دیا گیا ہے؛ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی کے مذہب میں بیجا مداخلت کی جائے۔ ہر مذہب اور اس کے ماننے والوں کی عزت نفس ہے اور اس کا خیال رکھنا ہر ہندستانی کا فرض ہے۔مگر کچھ دنوں سے فسطائی جماعتوں کی شرانگیزی کی وجہ سے ملک میں چھوٹے چھوٹے مسائل بہت اُچھالا جا رہا ہے۔ آج کل میڈیا میں’’دارالقضاء ‘‘کو لے کر مسلم پرسنل لا کو موضوع بحث بنادیا گیا ہے۔ اکاسی سال سے جو دارالقضاء ہندستان میں بڑے مؤثر انداز میں اپنا کام ہندستانی آئین کے دائرے میں کرتا آرہا ہے ۔ وہ اچانک ’’متوازی‘‘ نظام عدالت کس طرح بن سکتا ہے ۔ ووٹ حاصل کرنے یا کچھ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کا اقدام اور میڈیا کا اس پر بحث بازی مذہبی آزادی کے سراسر خلاف ہے‘‘۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے کیا۔ کونسل کے قومی صدر مولانا ندوی نے کہا کہ: ’’اس وقت پورے میں قومی یکجہتی اور بین المذاہب بھائی چارہ کو فروغ دینے کی سخت ضرورت ہے۔اسی کے ذریعہ ملک کو فسطائی چنگل سے بچایا جا سکتا ہے۔ مگر فسطائی عناصر بڑی چابک دستی سے میڈیا کے ذریعے عوام کو ایک اِشو میں الجھاکر ہمیں آئینی و دستور ی اختیارات سے محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم اس میں اُلجھ کر ان کے مقاصد کو پورا کرنے میں ان کے معاون بن جاتے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا کہ : ’’دارالقضاء کوئی متوازی عدالت یا ملک کے قانون کے خلاف کوئی ’’ غیر آئینی سرگرمی‘‘ نہیں ہے ۔ یہ تو صرف پرسنل لا کے اندر (جس میں آئینی طور پر ہر مذہب آزاد ہے ) اپنے مسائل کو حل کرنے کا شرعی طریقہ ء کار ہے ۔یہ سب کو معلوم بھی ہے ۔ اگر کسی معلوم نہیں ہے تو پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔ اچانک قومی بھائی چارے کو ختم کرنے اور ملک میں نفرت پھیلانے کے لیے اس کو سیاسی ایجنڈہ بنا ڈالنا ناقابل برداشت عمل ہے۔ اس میں ملوث تمام افراد کو پرسنل لا بورڈسے معافی مانگنی چاہیے ‘‘۔ کونسل کے قومی ترجمان مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے کہا کہ :’’ آل انڈیا امامس کونسل مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہے اور تمام جمہوریت پسند ہندستانیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ملک میں مذہبی اور نسلی منافرت پھیلانے والی فسطائی جماعتوں کے تعلق سے ہوشیار رہیں اور ان کی گندی سازشوں اورپروپیگنڈوں کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں؛تاکہ تمام ہندستانی عوام اپنے ملک میں بھائی چارہ اورامن و شانتی اورقومی یکجہتی اور مذہبی آزادی کے ساتھ ز ندگی گزار سکیں ‘‘۔